پہلا صفحہ
زندگی نامہ
تالیفات
توضيح المسائل
پيغام
فرزند ارجمند کي تالیفات
تصاوير
هم سے رابطه كيجئے
مرتبط سائٹس
مناسبات
مقالات
 

نمازجماعت:

مسئلہ۱۴۲۱۔ واجب نمازوں کوجماعت کے ساتھ پڑھنامستحب ہے خصوصانمازیومیہ کوجماعت کے ساتھ پڑھناچاہئے اورعلی الخصوص صبح، مغرب اورعشاء کے لئے زیادہ تاکیدکی گئی ہے، خصوصاجولوگ مسجدکے پڑوسی ہوں یااذان کی آوازسنتے ہوں۔

مسئلہ۱۴۲۲۔ ایک روایت میں ہے کہ اگرایک آدمی امام جماعت کی اقتداء کرے توہررکعت کاثواب ایک سوپچاس نمازکے برابرہے کہ اگر دوآدمی اقتدا کریں توہررکعت کاثواب چھ سونمازکے برابرہے اورنمازیوں کی تعدادجتنی بڑھتی جائے گی ان کاثواب بھی بڑھتاجائے گا، اور اگردس آدمیوں سے زیادہ اقتداکرنے والے ہوں تواگرتمام آسماں کاغذبن جائیں، تمام دریاروشنائی بن جائیں اوردرخت قلم بن جائیں اورتمام ملائکہ وجن وانس مل کرلکھیں تب بھی ایک رکعت کاثواب نہیں لکھ سکتے۔

مسئلہ۱۴۲۳۔ بے اعتنائی اورسبک شمارکرتے ہوئے جماعت میں شریک نہ ہوناجائزنہیں ہے اورمناسب نہیں ہے کہ انسان بغیرعذرکے نماز جماعت ترک کرے۔

مسئلہ۱۴۲۴۔ نمازجماعت کے لئے صبرکرنامستحب ہے، اول وقت تنہانمازپڑھنے سے جماعت کے ساتھ پڑھنابہترہے اسی طرح مختصرنماز جماعت لمبی فرادی نمازسے افضل وبرترہے۔

مسئلہ۱۴۲۵۔ اگرجماعت ہونے لگے توجولوگ فرادی نمازپڑھ چکے ہیں ان کے لئے مستحب ہے کہ دوبارہ جماعت سے پڑھ لیں اوراگر بعد میں معلوم ہوجائے کہ پہلی نمازباطل تھی تودوسری کافی ہے۔

مسئلہ۱۴۲۶۔ جس امام جماعت نے ایک جماعت کونمازپڑھادی ہواس کے لئے دوسری جماعت کودوبارہ نمازپڑھاناجائزہے۔

مسئلہ۱۴۲۷۔ جس کونمازمیںوسواس ہوتاہواوراس کاوسواس نمازمیں اشکال کاسبب بنتاہوتواگرجماعت سے نمازپڑھنے میںوسواس سے چھٹکارمل ہی جاتاہے تواس کونمازجماعت ہی سے پڑھنی چاہئے۔

مسئلہ۱۴۲۸۔ اگروالدین اپنی اولاددکوحکم دیے کہ نمازجماعت کے ساتھ اداکریں، تواگروہ نمازجماعت نہ پڑھے ان کی بے حرمتی ہوجائے تونمازباجماعت پڑھناان کے لئے واجب ہوگا۔

مسئلہ۱۴۲۹۔ کسی بھی مستحب نمازکوسوائے نمازاستسقاء( جو طلب باران کے لئے ہوتی ہے) اورنمازعیدالفطروعیدقربان کے (جوغیبت امام زمانہ میں مستحب ہیں) جماعت سے نہیں پڑھاجاسکتا۔

مسئلہ۱۴۳۰۔ نمازیومیہ کی ہرنمازکوامام کی ہرنمازکے ساتھ اقتداکرکے پڑھاجاسکتاہے، البتہ اگرامام احتیاطانمازکااعادہ کررہاہوتواس میں اقتدا نہیں کی جاسکتی، مگریہ کہ دونوں احتیاط کی لحاظ سے ایک جیسے ہوں اورایک نمازپڑھتے ہوں توہوسکتاہے۔

مسئلہ۱۴۳۱۔ اگرامام جماعت قضانمازپڑھ رہاہوتب بھی اس کی اقتداکی جاسکتی ہے، لیکن اگروہ نمازکواحتیاطاقضاکررہاہویاکسی دوسرے کی نمازقضااحتیاطاپڑھ رہاہواگرچہ بغیراجرت ہوں تواس کی اقتدامیں اشکال ہے، لیکن اگرانسان کوعلم ہوکہ جس کے لئے نمازقضاپڑھی جارہی ہے اس سے یقینانمازفوت ہوئی ہے توایسی صورت میں اس کی اقتداء میں پڑھنابلااشکال ہے۔

مسئلہ۱۴۳۲۔ اگرامام محراب میں ہواورکوئی اس کے پیچھے اقتدانہ کئے ہوئے ہوتوجولوگ محراب کے دونوں طرف کھڑے ہیں اورمحراب کی دیوارکی وجہ سے امام کونہیں دیکھ سکتے ہوںوہ لوگ امام کی بھی اقتدانہیں کرسکتے، بلکہ اگرامام کے پیچھے اقتدابھی کئے ہوں توجولوگ اسے کے دونوں طرف کھڑے ہیں اورمحراب کی وجہ سے امام کونہیں دیکھ سکتے توان کی جماعت بھی احتیاط واجب کی بناپرصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۳۳۔ اگرصفوں کی لمبائی کووجہ سے لوگ صفوں کے دونوں کناروں پرکھڑے ہیں اورامام کونہیں دیکھ سکتے توان کی نمازمیں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح اگرکوئی صف بہت لمبی ہواوراس کے دونوں کناروں پرکھڑے ہوئے لوگ اپنے اگلی صف کودیکھ پارہے ہوں تب بھی ان کی جماعت صحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۳۴۔ اگرنمازجماعت کی صفیں مسجدکے دروازے تک پہنچ جائیں توجوشخص دروازہ کے مقابل صف کے پیچھے کھڑاہے اس کی نمازصحیح ہے اوراسی طرح ان لوگوں کی نمازیں بھی صحیح ہیں جواس شخص کے پیچھے کھڑے ہوں، لیکن جواس دروازے کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اوراگلی صف کونہ دیکھ رہے ہوں تواحتیاط واجب کی بناپران کی اقتداصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۳۵۔ جوشخص ستوں کے پیچھے کھڑاہے اگرداہنی یابائیں طرف کے ماموم کے واسطے سے امام سے متصل ہے توکافی ہے، اوراگرمتصل نہ ہوتواقتداصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۳۶۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم سے بلندترنہ ہو،ہاں اگرتھوڑی سی بلندہوتوکوئی حرج نہیں ہے اسی طرح اگرنشیبی زمین ہواورامام اس طرف کھڑاہوجوبلندہے تواگرنشیب بہت زیادہ نہ ہواوراس کوزمین کی سطح کہتے ہوں توکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۳۷۔ اگرماموم کے قیام کی جگہ امام کے قیام کی جگہ سے اتنی اونچی ہوجتنی قدیم زمانہ کی تھی کہ سب کوایک اجتماع کی مقدار جتنی سمجھی جاتی ہوتویہ بلااشکال ہے، لیکن اگربلندی دورحاضرکی چندمنزلہ بلڈنگ جتنی ہوتوپھرجماعت میں اشکال ہے۔

مسئلہ۱۴۳۸۔ اگرایک صف کے نمازیوں کے درمیان ممیزبچہ ہواورفاصلہ ہوجائے تواگراس کی نمازباطل ہونے کاعلم نہ ہوتواقتداجائز ہے۔

مسئلہ۱۴۳۹۔ امام جب تکبیرکہہ کرنمازمیں داخل ہوتواگراگلی صفیں امادہ نمازہوں توسب ہی تکبیرکہہ کرنمازمیں داخل ہوسکتے ہیں۔

مسئلہ۱۴۴۰۔ اگریہ معلوم ہوکہ اگلی صفوں میں سے کسی ایک صف کی نمازباطل ہے توبعدوالی صفوں میں اقتدا نہیں کرسکتے، لیکن اگرمعلوم نہ ہوکہ اگلی صف والوں کی نمازصحیح ہے کہ نہیں تواقتداکرسکتے ہیں۔

مسئلہ۱۴۴۱۔ اگرماموم کومعلوم ہوکہ امام کی نمازقطعاباطل ہے، مثلاوہ جانتاہے کہ امام بے وضوہے، تواس کی اقتدانہیں کرسکتا۔

مسئلہ۱۴۴۲۔ اگرماموم کونمازکے بعدپتہ چلے کہ امام عادل نہیں تھایاخدانخواستہ کافرتھایااس کی نمازباطل تھی توماموم کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۴۳۔ اثنائے نمازمیں اگرماموم کوشک ہوجائے کہ نیت جماعت کی تھی کہ نہیں، تواگرایسی حالت میں ہوکہ اطمینان ہوجائے کہ مشغول جماعت ہے(مثلاامام کی حمدوسورہ کوسن رہاہے) تونمازکوجماعت کے ساتھ تمام کرے، لیکن اگراطمینان پیدانہ ہوتونمازکوفرادی کی نیت سے تمام کرے۔

مسئلہ۱۴۴۴۔ انسان نمازجماعت کے درمیان فرادی کی نیت کرسکتاہے۔

مسئلہ۱۴۴۵۔ اگرامام کے حمدوسورہ کے بعدماموم الگ ہوجائے اورفرادی کی نیت کرے توحمدوسورہ کاپڑھناضروری نہیں ہے، لیکن اگرحمد وسورہ کے ختم ہونے سے پہلے فرادی کی نیت کرے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ حمدوسورہع ازسرنوپڑھے۔

مسئلہ۱۴۴۶۔ اگراثناء نمازمیں فرادی کی نیت کرے توپھردوبارہ جماعت میں نہیں اسکتا، لیکن اگرمردد ہوجائے کہ فرادی کی نیت کرے یانہ کرے توپھرآخرمیں طے کرلے کہ جماعت ہی سے پڑھوں گاتواس کی جماعت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۴۷۔ اگرشک ہوکہ فرادی کی نیت کی تھی تویہ بنارکھے کہ فرادی کی نیت نہیں کی تھی۔

مسئلہ۱۴۴۸۔ جس وقت امام رکوع میں ہواس وقت امام کی اقتداء کرکے رکوع میں چلاجائے اوررکوع میں امام سے ملحق ہوجائے تواس کی نمازصحیح ہے، چاہے امام نے ذکررکوع کہاہویانہیں، اوریہ اس کی پہلی رکعت شمارہوگی لیکن اگررکوع کی حدتک جھک لیکن امام سے ملحق نہ ہوسکے توجماعت باطل ہے۔

مسئلہ۱۴۴۹۔ اگرامام رکوع میں ہواورماموم اقتداکرے اوراثناء رکوع میں شک کرلے امام سے ملحق ہواکہ نہیں تونمازباطل ہے اوراحتیاط یہ ہے کہ نمازکوتمام کرے اوردوبارہ پڑھے۔

مسئلہ۱۴۵۰۔ جس وقت امام رکوع میں ہے اسی وقت اگراقتداکرے اوربمقداررکوع جھکنے سے پہلے امام رکوع سے کھڑاہوجائے توفرادی کی نیت کرے یاصبرکے کہ امام دوسری رکعت کے لئے کھڑاہواوریہ اس کواپنی پہلی رکعت شمارکرے، لیکن اگرامام کی دوسری رکعت کے لئے کھڑاہونے میں اتنی دیرلگتی ہوکہ اس شخص کے متعلق نہ کہاجاسکے کہ نمازجماعت پڑھ رہاہے تواسے چاہئے کہ فرادی کی نیت کرلے۔

مسئلہ۱۴۵۱۔ اگراول نمازیاحمدوسورہ کے درمیان اقتداکرے اوراپنے کوامام کے ساتھ رکوع میں نہ پہنچائے تواس کی جماعت صحیح ہے اوراسے رکوع بجالاناچاہئے۔

مسئلہ۱۴۵۲۔ اگرایسے وقت پہنچے جب امام نمازکاآخری تشہدپڑھ رہاہواوروہ ثواب جماعت حاصل کرناچاہے تونیت کرکے تکبیرة الاحرام کہے اوربیٹھ جائے اورامام کے ساتھ تشہدمیں شریک ہوجائے لیکن سلام نہ پڑھے چپ چاپ بیٹھارہے یہاں تک کہ امام کاسلام ختم ہوجائے اس کے بعدکھڑے ہوکراپنی نمازپڑھے، یعنی حمدوسورہ وغیرہ پڑھے اوراس کواپنی پہلی رکعت قراردے۔

مسئلہ۱۴۵۳۔ ماموم امام سے آگے نہ کھڑاہواوراحتیاط واجب کی بنا پرامام سے تھوڑاساپیچھے کھڑاہواوراگرماموم کاقدامام سے اتنالمباہوکہ رکوع کے وقت امام سے آگے ہوجائے توکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۵۴۔ امام وماموم اوراسی طرح خودمامومین میں ایک دوسرے کودیکھنے سے کوئی چیزمانع نہ ہو، ہاں اگرماموم عورت ہوتواس کے اورمردوں کے درمیان حائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگرامام اورماموم دونوںعورت ہوتوان کاحکم مردوںوالاہے۔

مسئلہ۱۴۵۵ ۔اگرنمازجماعت شروع ہوجانے کے بعدامام اورماموم کے درمیان یامامومین کے درمیان کوئی پردہ وغیرہ جس سے اس کی پشت وغیرہ نظرنہ آئے حائل ہوجائے توخودبخودنمازفرادی ہوجاتی ہے اورصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۵۶۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم کے سجدہ کی جگہ اورامام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان ایک معمولی قدم سے زیادہ کا فاصلہ نہ ہو، اسی طرح جس شخص کاامام سے اتصال اگلی صف میں کھڑے ہونے والے ماموم کے ذریعہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہےکہ اس شخص کے سجدہ کی جگہ اوراگلی صف والے ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان بھی اتنافاصلہ زیادہ نہ ہو، اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ ماموم کے سجدہ کی جگہ اوراس کے آگے ولے شخص کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ۱۴۵۷۔ اگرماموم کااتصال امام سے بائیں یادائیں طرف کے مامومین کی وساطت سے ہواورآگے سے امام سے متصل نہ ہوتواگر ایک معمولی قدم سے زیادہ کافاصلہ نہ ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۵۸۔ اگرنمازمیں امام اورماموم کے درمیان یاماموم اوردیگرماموم جس کی وساطت سے اتصال ہوکے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ ہوجائے توان کی نمازفرادی ہوگی اورصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۵۹۔ اگراگلی صف کے تمام لوگوں کی نمازختم ہوجائے یاسب کے سب فرادی کی نیت کرلیں تواگرفاصلہ ایک معمولی قدم سے زیادہ نہ ہوتوبعدوالی صف کی نمازبطورجماعت صحیح ہوگی اوراگرمذکورہ مقدارسے زیادہ فاصلہ ہوتوان کی نمازبطورفرادی صحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۶۰۔ اگردوسری رکعت میں اقتداکرے توقنوت وتشہدامام کے ساتھ ہی پڑھ لے اوراحتیاط یہ ہے کہ تشہدپڑھتے وقت گھٹنوں کوزمین سے بلندکرے صرف ہاتھوں کی انگلیوں کواورپیروں کوزمین پررکھے رہے(بالکل اس طرح بیٹھے جیسے اٹھناچاہتاہو) امام کے تشہدکے بعدکھڑاہوجائے حمدوسورہ پڑھے اگرسورہ کے لئے وقت نہ ہوتوصرف حمدپڑھے اوراپنے کوامام کے ساتھ رکوع میں پہنچادے یافرادی کی نیت کرے اورنمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۶۱۔ جوشخص امام کی دوسری رکعت میں شریک ہووہ اپنی دوسری رکعت میں(جوامام کی تیسری ہے) دونوں سجدوں کے بعدبیٹھ کر بمقدارواجب تشہدپڑھے اوراٹھ کرامام کے ساتھ شریک ہوجائے اب اگرتین مرتبہ تسبیحات پڑھنے کاوقت نہ ہوتوایک مرتبہ تسبیح پڑھ کر رکوع یاسجدہ میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔

مسئلہ۱۴۶۲۔ اگرامام کی تیسری یاچوتھی رکعت ہواورماموم جانتاہوکہ اگرابھی شریک ہوکرحمدپڑھے گاتوامام کورکورع میں نہیں پائے گاتواحتیاط واجب ہے کہ صبرکرے جب امام رکوع میں پہنچ جائے تونیت کرکے شریک ہوجائے۔

مسئلہ۱۴۶۳۔ اگرکوئی امام کی تیسری یاچوتھی رکعت میں شریک ہوتوحمدوسورہ کوپڑھے اوراگراتناوقت نہ ہوتوفقط حمدپڑھ کر امام کے رکوع میں پہنچادے لیکن اگرسجدہ میں امام سے جاملے توبہتریہ ہے کہ احتیاطا نمازدوبارہ پڑھے۔

مسئلہ۱۴۶۴۔ جس کویہ معلوم ہوکہ اگرسورہ یاقنوت پڑھے گاتورکوع میں امام سے نہیں مل پائے گاتواسے نہیں پڑھنی چاہئے لیکن اگرپڑھ لی تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۶۵۔ جس شخص کواطمینان ہوکہ سورہ پڑھ کرامام کورکوع میں پالے گا،تواحتیاط واجب ہے کہ سورہ کوپڑھے۔

مسئلہ۱۴۶۶۔ جس شخص کواطمینان ہوکہ سورہ پڑھ کرامام کورکوع میں پالے گا،اگروہ سورہ کوپڑھے اوراتفاق سے رکوع میں امام کے ساتھ نہ پہنچ سکے تواس کی جماعت صحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۶۷۔ اگرامام حالت قیام میں ہے اورماموم کونہیں معلوم کہ یہ امام کی کونسی رکعت ہے پھربھی شریک جماعت ہوسکتاہے شریک ہوکر قصدقربت سے حمدوسورہ پڑھے اس کی نمازصحیح ہے چاہے معلوم ہوجائے کہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے۔

مسئلہ۱۴۶۸۔ اگریہ خیال کرتے ہوے کہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے وہ حمدوسورہ نہ پڑھے اوررکوع کے بعدمعلوم ہوکہ تیسری یا چوتھی تھی تواس کی نمازصحیح ہے، لیکن اگررکوع سے پہلے معلوم ہوجائے توحمدوسورہ دونوں پڑھے اوراگروقت نہ ہوتوصرف حمدپڑھے اوررکوع میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔

مسئلہ ۱۴۶۹۔ اگریہ خیال کرتے ہوئے کہ امام کی تیسری یاچوتھی رکعت ہے وہ حمدوسورہ پڑھے اوررکوع کے بعدیارکوع سے پہلے معلوم ہوکہ امام کی پہلی یادوسری رکعت ہے تواس کی نمازصحیح ہے اوراگراثناء حمدوسورہ پتہ چلے ان کومکمل کرناضروری نہیں ہے

مسئلہ۱۴۷۰۔ اگرمستحبی نمازپڑھ رہاہواورجماعت منعقدہوجائے تواگراسے یہ اطمینان نہ ہوکہ وہ نمازتمام کرکے جماعت سے شریک ہوسکتا تومستحب ہے کہ مستحبی نمازکوچھوڑدے اورجماعت سے شریک ہوجائے بلکہ اگریہ اطمینان نہ ہوکہ وہ پہلی رکعت میں جماعت کوپالے گاتوبھی مستحب ہے کہ اس دستورپرعمل کرے۔

مسئلہ۱۴۷۱۔ اگرواجب نمازپڑھ رہاہواورجماعت شروع ہوجائے اوروہ ابھی تیسری رکعت میں نہیں پہنچاہے اورخطرہ ہے کہ اگرنماز کوتمام کرتاہے توجماعت نہیں مل سکے گی تومستحب ہے کہ نیت کومستحبی نمازکی طرف بدل دے اوردورکعت پرختم کرکے جماعت میں شریک ہوجائے۔

مسئلہ۱۴۷۲۔ اگرامام کی نمازختم ہوجائے اورماموم تشہدیاسلام پڑھنے میں مشغول ہوتوضروری نہیں ہے کہ فرادی کی نیت کرے۔

مسئلہ۱۴۷۳۔ جوشخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہوجب امام تشہدپڑھنے لگے تووہ فرادی کی نیت کرسکتاہے اورکھڑے ہوکرنمازتمام کرے یااپنے گھٹنوں کوزمین سے اٹھاکراوراپنی انگلیوں کواورپیروں کوپنجوں کوزمین پرٹیک کراٹھنے والے کی صورت میں انتظارکر یہاں تک کہ امام سلام کہہ لے پھراٹھ کراپنی باقی نماز پڑھے۔

امام جماعت کے شرائظ:

مسئلہ۱۴۷۴۔ امام جماعت کے لئے بالغ، عاقل، حلال زادہ، شیعہ اثناعشری اورصحیح قرائت والاہوناضروری ہے اوراحتیاط واجب کی بناپر مردہوناچاہئے اوراگرممیزبچہ جواچھائی اوربرائی کوسمجھتاہے دوسرے ممیزبچے کی اقتداکرلے توکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۷۵۔ جس امام کوعادل سمجھتاتھااگرشک کرے کہ وہ عدالت پرباقی ہے کہ نہیں تواس امام کی اقتداکرسکتاہے۔

مسئلہ۱۴۷۶۔ کھڑے ہوکرنمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتدانہیں کرسکتااوربیٹھ کرنمازپڑھنے والالیٹ کر نمازپڑھنے والے کی اقتدانہیں کرسکتا۔

مسئلہ۱۴۷۷۔ بیٹھ کر نمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتداکرسکتاہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ لیٹ کرنمازپڑھنے والا، بیٹھ کرنمازپڑھنے والے کی اقتدانہ کرے۔

مسئلہ۱۴۷۸۔ اگرامام تیمم یاوضوئے جبیرہ کے ساتھ نمازپڑھ رہاہوتواس کی اقتداکی جاسکتی ہے لیکن اگرکسی عذرکی بناپرمجبورانجس لباس میں نمازپڑھ رہاہوتوبنابراحتیاط واجب اس کی اقتدانہیں کی جاسکتی۔

مسئلہ۱۴۷۹۔ جوشخص پیشاب یاپاخانہ کے روکنے پرقادرنہیں ہے احتیاط واجب کی بناپراس کی اقتدانہیں کی جاسکتی اورنہ مستحاضہ کی اقتداہو سکتی ہے۔

مسئلہ۱۴۸۰۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ جوشخص جذام یابرص کابیمارہووہ امام جماعت نہ بنے اورجس پرشرعی حدجائی ہوگئی ہووہ بھی امام جماعت نہ بنے۔

جماعت کے احکام:

مسئلہ۱۴۸۱۔ ماموم کوچاھئے کہ امام کواپنی نیت میں معین کرے لیکن امام کے نام کاجانناضروری نہیں ہے، اگرصرف یہ نیت کرے کہ امام حاضرکی اقتدامیں نمازپڑھتاہوں توکافی ہے۔

مسئلہ۱۴۸۲۔ حمدوسورہ کے علاوہ ماموم کوتمام چیزیں پڑھنی چاہئے لیکن اگرامام کی تیسری یاچوتھی رکعت ماموم کی پہلی یادوسری رکعت ہوتوپھر ماموم کوحمدوسورہ بھی پڑھنی چاہئے۔

مسئلہ۱۴۸۳۔ اگرماموم نمازصبح، مغرب وعشاء میں امام کی قرائت کی آوازسن رہاہوتواگرچہ کلمات کی تشخیص نہ کرتاہوحمدوسورہ نہ پڑھے، لیکن اگر نہ سن رہاہوتوحمدوسورہ کاپڑھنامستحب ہے لیکن آہستہ پڑھے اوراگرسہوابلندآوازسے پڑھے توکوئی اشکال نہیں۔

مسئلہ۱۴۸۴۔ اگرماموم امام کے حمدوسورہ کے بعض کلمات کوسن رہاہوتواحتیاط واجب ہے کہ حمدوسورہ نہ پڑھے۔

مسئلہ۱۴۸۵۔ اگرماموم بھولے سے یااس خیال سے کہ جوآوازسن رہاہے وہ امام کی نہیں ہے حمدوسورہ کوپڑھے اوربعدمیں پتہ چلے کہ وہ امام کی آوازتھی تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۸۶۔ اگرشک ہوکہ امام کی آوازسن رہاہے یانہیں یایہ شک ہوکہ جوآوازسنائی دے رہی ہے امام کی ہے یانہیں تواس صورت میں قربت مطلقہ کی نیت سے حمدوسورہ پڑھ سکتاہے۔

مسئلہ۱۴۸۷۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم نمازظہروعصرکی پہلی اوردوسری رکعت میںحمدوسورہ نہ پڑھے اورمستحب ہے کہ اس کی جگہ صرف ذکرپڑھتارہے۔

مسئلہ۱۴۸۸۔ امام سے پہلے ماموم تکبیرة الاحرام نہیں کہہ سکتابلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک امام پوری تکبیرمکمل نہ کرلے ماموم تکبیرة الاحرام نہ کہے۔

مسئلہ۱۴۸۹۔ اگرماموم امام کے سلام کوسن رہاہویاسے معلوم ہوکہ امام کسی وقت سلام دے گاتووہ امام سے پہلے سلام نہ پڑھے اوراگرعمدا امام سے پہلے سلام پڑھ لے تواشکال ہے اوراگربھولے سے امام سے پہلے سلام دے تواس کی نمازصحیح ہے اوردوبارہ سلام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۱۴۹۰۔ امام سے پہلے ماموم تکبیرةالاحرام اورسلام نہیں کہہ سکتاالبتہ دیگراذکارمیں کوئی مانع نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہی ہے کہ اگرامام کی آوازکوسن رہاہوتواس سے پہلے کوئی ذکرنہ کرے۔

مسئلہ۱۴۹۱۔ افعال نمازجیسے رکوع وسجودوغیرہ میں سے کسی بھی فعل کوماموم امام سے پہلے نہ بجالائے بلکہ امام کے ساتھ یااس کے بعدبجالائے اوراگرکوئی شخص جان بوجھ کریہ کام امام سے پہلے یاکچھ مدت کے بعدبجالائے تووہ گنہگارہے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکوتمام کرنے کے بعددوبارہ بھی پڑھے۔

مسئلہ۱۴۹۲۔ اگربھولے سے امام سے پہلے سرکورکوع سے اٹھائے تودوبارہ رکوع میں چلاجائے امام کے ساتھ دوبارہ سراٹھائے، یہاں پررکوہ کی زیادتی سے نمازباطل نہیں ہوتی، البتہ اگردوبارہ رکوع میں جائے اورقبل اس کے کہ یہ رکوع میں پہنچے امام رکوع سے سراٹھالے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ۱۴۹۳۔ اگرماموم یہ خیال کرکے کہ امام نے سجدہ سے سراٹھایاتوخود بھی سراٹھالے(اب اگرامام سجدہ ہی میں ہے) تودوبارہ سجدہ میں چلاجائے اوراگریہی صورت دونوں سجدوں میں پیش آجائے تودوسجدے کی زیادتی (جورکن ہے) نمازکوباطل نہیں کرے گی۔

مسئلہ۱۴۹۴۔ جس شخص نے غلطی سے امام سے پہلے سجدہ سے سراٹھایا، اگروہ دوبارہ سجدہ میں جائے اورامام سجدہ سے اسی وقت سراٹھالے تواگریہ صورت صرف ایک سجدہ میں پیش آئے تب تونمازصحیح ہے لیکن اگردونوں سجدوں میں یہی صورت درپیش ہوتونمازباطل ہے۔

مسئلہ۱۴۹۵۔ اگرماموم اشتباہارکوع یاسجدہ سے سراٹھالے اورسہوا یااس خیال سے کہ اگردوبارہ رکوع یاسجدہ میں جاؤں گاتوامام کونہ پاسکوں گااس لئے رکوع یاسجدہ میں نہ جائے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ۱۴۹۶۔ اگرسجدہ سے سراٹھائے اوریہ دیکھے کہ امام ابھی سجدہ میں ہے چنانچہ وہ اس خیال سے کہ امام کاپہلاسجدہ ہے امام کے ساتھ سجدہ کرنے کی نیت سے سجدہ میں چلاجائے اوربعدمیں معلوم ہوکہ امام کادوسراسجدہ تھاتواس کابھی دوسراسجدہ شمارہوگااوراگرماموم اس خیال سے کہ امام کادوسراسجد ہ ہے سجدہ میں چلاجائے بعدمیں معلوم ہوکہ امام کاپہلاسجدہ تھاتویہ جماعت کے امام کی اتباع شمارہوگی اوراسے چاہئے کہ دوبارہ امام کے ساتھ سجدہ میں چلاجائے اوردونوںصورتوں میں احتیاط واجب یہ ہے کہ نمازکوباجماعت تمام کرکے دوبارہ بھی پڑھے۔

مسئلہ۱۴۹۷۔ اگرماموم سہواامام سے پہلے رکوع میں اس طرح چلاجائے کہ اگرسراٹھالے توامام کی قرائت کاکچھ حصہ مل جائے گاتوفورا سر اٹھالے اورامام کی قرائت کودرک کرے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں جائے اوراگرجان بوجھ کرواپس نہ لوٹے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی نمازباطل ہے اورہردورکوع میںذکرپڑھے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ پہلے رکوع میں ایک مرتبہ ذکرصغیرسے زیادہ نہ پڑھے۔

مسئلہ۱۴۹۸۔ اگربھولے سے امام سے پہلے رکوع میں جائے اوراگریہ جانتاہے کہ سراٹھانے کے بعدامام کی قرائت کاکوئی حصہ نہیں ملے گا، اگرامام کے رکوع میں پہنچنے تک خودرکوع میںصبرکرلے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔

مسئلہ۱۴۹۹۔ اگربھولے سے امام سے پہلے سجدہ میں جائے، چنانچہ صبرکرے یہاں تک کہ امام سجدہ پہنچ جائے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔

مسئلہ۱۵۰۰۔ جس رکعت میں تشہدنہیں ہے اگرامام بھولے سے تشہدپڑھنے لگے یاجس وقت قنوت نہیں ہے قنوت پڑھنے لگے توماموم تشہد یاقنوت کوتونہ پڑھے، لیکن نہ امام سے پہلے کھڑاہوسکتاہے نہ رکوع میں جاسکتاہے، بلکہ کسی ذریعہ سے امام کی غلطی کی طرف امام کومتوجہ کردے اوراگرنہ ہوسکے توصبرکرے جب امام کاتشہدیاقنوت ختم ہوجائے توامام کے ساتھ باقی نمازکوتمام کرے۔

جماعت کے مستحبات:

مسئلہ۱۵۰۱۔ اگرماموم صرف ایک مردہوتوامام کے داہنی طرف کھڑاہواوراگرصرف ایک عورت ماموم توامام کے داہنی طرف اتنے پیچھے کھڑی ہوکہ اس کے سجدہ کی جگہ امام کے گھٹنوں یاقدموں کے پاس ہواوراگرایک مرداورایک عورت یاایک مردوچندعورتیں ہوں تومستحب ہے کہ مردامام کے داہنی طرف اورعورتیں امام کے پیچھے کھڑی ہوں،اوراگرچندمرداورعورتیں بھی ہوں تومردامام کے پیچھے اورعورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوں۔

مسئلہ۱۵۰۲۔ مستحب ہے کہ امام صف کے وسط میں اوراہل علم وفضیلت وتقوی پہلی صف میں کھڑے ہوں۔

مسئلہ۱۵۰۳۔ مستحب ہے کہ جماعت کی صفیں اس طرح منظم ہوں کہ مامومین کے شانے ایک دوسرے سے ملے ہوں اورہرصف میں جولوگ کھڑے ہوں ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ۱۵۰۴۔ مستحب ہے کہ ”قدقامت الصلاة“ کے بعدتمام لوگ کھڑے ہوجائیں اورنمازکے لئے تیارہوجائیں۔

مسئلہ۱۵۰۵۔ مستحب ہے کہ امام سب سے کمزورماموم کی حالت کالحاظ رکھے، اتنی جلدی نہ کرے کہ کمزورلوگ ساتھ نہ دے سکیں اوررکوع وسجودوقنوت وغیرہ میں اتنی دیرنہ کرے کہ کمز ورلوگ برداشت نہ کرسکیں، البتہ اگروہ جانتاہے کہ جتنی لوگ اس کے پیچھے نمازپڑھ رہے ہیں سب ہی طول کوپسندکرتے ہیں تب طول دے۔

مسئلہ۱۵۰۶۔ مستحب ہے کہ امام حمدوسورہ پڑھتے وقت اتنی بلندآوازسے پڑھے کہ مامومین سن لیں مگریہ بھی نہ ہوکہ چلاکرپڑھنے لگے۔

مسئلہ۱۵۰۷۔   اگرامام رکوع میں سمجھ لے کہ کچھ لوگ ابھی آئے ہیں اورجماعت میں شریک ہوناچاہتے ہیں تومستحب ہے رکوع کوتھوڑاساطول دیدے تاکہ وہ لوگ شریک ہوسکیں، لیکن عام طورسے رکوع جتنی دیرمیں کرتاہے اس کے دوگنے سے زیادہ طول نہ دے چاہے اس کومعلوم ہوایک یاکئی جماعت اورجماعت میں شریک ہوناچاہتے ہیں۔

جماعت کے مکروہات:

مسئلہ۱۵۰۸۔ اگرصفوں میں جگہ ہوتونمازکوتنہاکھڑاہونامکروہ ہے۔

مسئلہ۱۵۰۹۔ مکروہ ہے کہ ماموم ذکرکواتنی ز ورسے کہے کہ امام سنے۔

مسئلہ۱۵۱۰۔ مسافریعنی جوظہروعصروعشاء کوقصرپڑھتاہو،مقیم حضرات کی امامت کرنامکروہ ہے، اسی طرح مسافرمقیم کی اقتدانہ کرے۔